غزوہ ہند کی پہلی مہم کا اآغازاس وقت ہوتاہے ہے کہ جب محمدبن قاسم رحمتہ اللہ علیہ اپنی فوجوں کو لیکر سندھ کی جانب روانہ ہوتے ہیں!

محمد بن قاسم رحمتہ اللہ علیہ کی فتح سندھ کی مہم کا جائزہ لینے کیلئے اس وقت کے سیاسی حالات کا تجزیہ بھی ضروری ہے کہ جن میں یہ مہم سرانجام دی گئی تھی۔ یہ اموی خلیفہ بن عبدالملک کودورتھا۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب ایران وعراق کے گورنر حجاج بن یوسف نے سلطنت کے چاروں اطراف بڑی بڑی جنگی مہمات روانہ کر رکھی تھیں۔ موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد ہسپانیہ کی فتح کیلئے یورپ میں داخل ہوچکے تھے۔ خراسان کے گورنر قتیبہ بن مسلم کو وسطی ایشیاء اور ماوراء النہر کی فتوحات کیلئے بھیجا جاچکا تھا۔ اسی دورمیں محمد بن قاسم رحمتہ اللہ علیہ کو سندھ کی طرف روانہ کیاگیا۔ حجاج بن یوسف نے جومہم یورپ کی جانب روانہ کی اس نے آنے والے وقتوں میں اگلے آٹھ سوبرس تک اندلسیہ کی شاندار تہذیب قائم کی۔ قتیبہ بن مسلم نے وسطی ایشیاء کو فتح کرکے مسلمان سلطنت کی سرحدیں چین تک پہنچا دیں اور یہ ساراخطہ آج تک مسلمان ہے ۔تیسری جانب محمد بن قاسم رحمتہ اللہ علیہ کی مہم نے ہندوستان کے بت پرست اور مشرک معاشرے میں اسلامی سلطنت کی بنیادرکھی ، کہ جس نے آنے والی صدیوں میں پورے ہندوستان پر اسلامی حکومت قائم کی۔
محمد بن قاسم رحمتہ اللہ علیہ کی مہم کا آغاز 712 عیسوی کے آس پاس ہوتاہے ۔مگر اس سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کو سندھ کی طرف ہی کیوں بھیجا گیا؟ تاریخ کی عام کتابوں میں اس کا جواب صرف یہی ملتا ہے کہ راجہ داہر نے عربوں کی کچھ کشتیاں لوٹ لیں تھیں اور اسی کے جواب میں اس مہم کا آغازہوا۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ غزوہ ہند کی اس پہلی مہم کانقطہ آغاز تویہ واقعہ ضرور بنا ،مگر اس مہم کیلئے حالات بہت طویل عرصے سے تیارہورہے تھے۔خلافت اسلامیہ نے ایرانی سلطنت فتح کرکے اسکے جن صوبوں پر قبضہ کیا،ان کی سرحدیں براہ راست ہنداورچینی سلطنت کےساتھ ملتی تھیں۔ایرانی سلطنت کے شاہی خاندان کے تمام افراد،فوج کے اعلیٰ افسران اور ان کے کچھ فوجی دستے مسلمانوں سے شکست کھا کر چین چلے گئے تھے۔ہندوستان کے راجے مہاراجے بھی درپردہ مسلمانوں کے خلاف ایرانی سلطنت کی مددکررہے تھے۔علاوہ ازیں مملکت اسلامیہ کے اندربھی بغاوتیں برپا ہورہی تھیں، مثلاًخارجیوں کافتنہ،کہ جس کے خلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے وقت سے ہی مسلمان حکمران برسرپیکارتھے۔خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کوبھی ایک خارجی نے شہید کیا۔گوکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خواج کے خلاف کئی جنگیں لڑی تھیں،مگرپھربھی ان کافتنہ باقی رہا۔چنددہائیوں کے بعدحجاج بن یوسف کوبھی خراسان میں خارجیوں کے خلاف ایک بڑی جنگی کاروائی کرنا پڑی۔خارجیوں کی بھی ایک بڑی سلطنت ہند سے مددلینے کیلئے بلوچستان اور مکران کی طرف سفرکررہی تھی۔خوارج کی ایک نشانی حدیث مبارکہ میں یہ بھی بتائی گئی ہے کہ وہ ہندکے مشرکوں سے مددلیکر مسلمانوں کے خلاف جنگ کریں گے !خواج کایہ عمل حجاج بن یوسف کے دورمیں بھی تھا اور آج اکیسویں صدی میں پاکستان کی ریاست کے خلاف بھی جاری ہے۔اس وقت بھی مشرکوں اورخواج کااتحادقائم تھااورآج بھی ہے۔
حجاج بن یوسف کے دورمیں مسلمان مشرق میں پوری ایرانی سلطنت پر قابض ہوچکے تھے۔شمال میں بازنطینی سلطنت کیساتھ ان کا تصادم جاری تھا،جبکہ عراق تک تمام سرحدیں مسلمانوں کے پاس تھیں اور بازنطینی سلطنت کے پاس صرف موجودہ ترکی ہی باقی رہ گیا تھا۔شمالی افریقہ کے بعد اب اسپین بھی جلد مسلمانوں کے قبضے میں آنے والا تھا۔جزیرہ نماعرب کے ایک جانب خلیج فارس،دوسری طرف بحیرہ حمراورتیسری جانب بحیرہ عرب واقع ہے۔عربوں کے اسلام لانے سے پہلے بھی ان کے تجارتی بحری جہازسیلوں(سری لنکا)،مالدیپ اورچین کی جنوبی بندرگاہ کینٹون تک جایاکرتے تھے۔شاہراہ ریشم کہ جو چین سے چلاکرتی تھی اس کا تجارتی مال یمن تک بحری جہازوں کے ذریعے لایاجاتا اور پھر یہاں سے قریش اور دیگر قبائل مال لیکر شام اور یورپ تک جایاکرتے تھے۔
عربوں کے اسلام لانے کے بعد بھی مسلمانوں کے تجارتی قافلے شام سے لیکر چین تک بری اور بحری راستوں سے سفرکیاکرتے تھے۔تجارت کے ساتھ ساتھ تبلیغ دین بھی اب مسلمانوں کاایک اہم ہدف تھا۔مشرق بعید کے تمام علاقے مثلاًانڈونیشیاء ملائیشیاء اورفلپائن وغیرہ کہ جہاں آج کروڑوں مسلمان بستے ہیں،وہ انہی تجارتی اورتبلیغی قافلوں کے ذریعے مسلمان ہوئے۔کوئی مسلمان فوج ان علاقوں کوفتح کرنے کیلئے کبھی نہیں بھیجی گئی۔یہ تجارتی قافلے کہ جوچین سے لیکر مشرق وسطیٰ تک سفرکرتے تھے۔مسلم تہذیب کیلئے معاشی شہ رگ کی حیثیت رکھتے تھے۔اگر اس شہ رگ پر کوئی ضرب کاری لگتی تواس کا اثرپوری مسلمان سلطنت پرپڑتا۔
سمندری راستے ہمیشہ سے ہی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔دنیاکی تمام قومیں اپنے سمندری راستوں کی حفاظت کرتی ہیں۔اگرہم آج دنیاکی عظیم طاقتوں کے تزویراتی مقاصدکاجائزہ لیں تو ان کا ایک ہم نکتہ یہ بھی ہے کہ عالمی تجارت کے آبی راستوں پرتسلط قائم کیاجائے۔دنیاکی جوقومیں آبی راستوں پرتسلط رکھتی ہیں،وہی عالمی معیشت میں عظیم طاقتیں بن کرابھرتی ہیں۔دنیاکے کچھ ایسے آبی راستے ہیں کہ جن پرصدیوں سے عالمی طاقتوں کا تصادم جاری ہے،مثلاًنہر سوئز،آبنائے جبل الطارق،آبنائے ملاکااور خلیج فارس وغیرہ۔بیسویں صدی کے وسط میں کہ جب مصر نے نہر سوئز کوبندکردیاتھا،تواس وقت کی عالمی طاقتوں نے باقاعدہ مصرپرفوج کشی کی اور مصری حکومت کو مجبورکیاکہ نہر سوئز کودوبارہ کھولاجائے۔اسی طرح پہلی جنگ عظیم کے دوران عالمی مغربی طاقتی نے استنبول پرحملہ کردیاکہ کسی طرح آبنائے باسفورس کواپنے قبضے میں لے سکیں۔اسی طرح آج بھی آبنائے جبل الطارق کے دونوں اطراف یورپی طاقتوں نے اپنا تسلط قائم کررکھا ہے کہ افریقہ کے مسلمان ممالک اس ہم بحری راستے پر کنٹرول حاصل نہ کرسکیں۔آج امریکہ اپنابحری بیڑا لیکرخلیج فارس میں موجودہے تاکہ کوئی مسلمان طاقت اس پرقبضہ نہ کرسکے۔
ہزاروں سال سے لیکرآج اکیسویں صدی تک،یہ بات ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جس قوم یا قوت نے بھی سمندوں پراپنا تسلط اور قبضہ قائم کیاہے،وہی پوری دنیاپرحکمرانی کرتی ہے ۔بحرہندخاص طورپر ہزاروں سال سے دنیا کی ہرتہذیب کیلئے اہم ترین آبی گزرگاہ رہاہے۔
محمد بن قاسم رحمتہ اللہ علیہ کی فتح سندھ کی مہم کے وقت شاہرہ ریشم کے دوبڑے راستے تھے کہ جہاں سے تجارتی قافلے چین سے باقی دنیاکی جانب نکلتے ۔ایک راستہ وطی ایشیاء سے خشکی کے راستے ثمرقند اور بخارا سے ہوتاہوا ایرانی اور پھر بازنطینی سلطنتوں کی طرف جاتاتھا۔دوسراراستہ چین سے لیکر قراقرم کے پہاڑوں سے ہوتاہوا،دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں داخل ہوتاتھا۔ہندوستان میں درائے سندھ کی بندرگاہوں سے بازنطینی سلطنت،عرب تاجر اور دنیاکے دیگر علاقوں کے بحری جہازسامان اٹھایاکرتے تھے۔مسلمان سلطنت،کہ جس نے اب شام کی فتح کے بعد بازنطینیوں کو بحیرہ روم میں مقید کردیاتھا،کی ایک خواہش یہ بھی تھی کہ شاہراہ ریشم پربھی مسلمانوں کاتسلط قائم ہوجائے۔اگرچہ مسلمانوں نے اپنی بندرگاہیں ہندکے جنوب میں سیلون،مالدیپ اورچین میں بنالی تھیں، لیکن ابھی تک مسلمانوں کو پوری طرح شاہراہ ریشم کی تجارت پر اختیار حاصل نہیں ہواتھا۔
ہندوستان کے بارے میں یہ بات جانناضروری ہے کہ اس دورمیں پورے ہندوستان پر کوئی واحد حکمران حکومت نہیں کرتاتھا۔پوراہندوستان سینکڑوں چھوٹے بڑے راجوں اورمہاراجوں میں تقسیم تھا۔اس وقت جنوبی ہند یاسندھ کے وہ علاقے کہ جہاں پرآج پاکستان قائم ہے،طوائف الملوکی کادوردورہ تھا۔یہاں چھوٹے موٹے راجے مہاراجے تھےکہ جو بنیادی طورپر بحری قذاق تھے۔طوائف الملوکی اور بے راہ روی کی وجہ سے قذاقوں نے مسلمانوں کے بحری جہازوں اور تجارتی قافلوں کے لیے مشکلات کھڑی کرنا شروع کردی تھیں۔
محمد بن قاسم رحمتہ اللہ علیہ کی مہم بھیجنے سے قبل بھی حجاج بن یوسف نے سندھ کی طرف دومہمات بھیجی تھیں کہ جن کا بڑا مقصدیہ تھا کہ ایرانی سلطنت کے بچے کچھے عناصر کہ جوسندھ کے ہندوحکمرانوں سے رابطہ کررہے تھے،کوروکاجاسکے۔ساتھ ہی ان خارجیوں کابھی خاتمہ کیاجاسکے کہ جو ہند کے راجوں سے مددکیلئے یہاں پہنچ رہے تھے،اور ساتھ ہی ساتھ بحری قذاقوں کے خطرے سے بھی نمٹاجاسکے۔ان مہمات کے لیے تمام مسلمان سلطنت سے مددلی گئی تھی۔اس سلسلے میں عمان اور مکران کے مسلمانوں نے بھی بہت مددکی۔مگردونوں مہمات ہی کامیاب نہ ہوسکیں۔
اگرسندھ کی اس وقت کی داخلی صورتحال کابغورجائز لیاجائے تو معلوم ہوگاکہ سندھ کاحکمران راجہ داہر خودبرہمن ہندوتھا،مگروہاں بڑی تعدادمیں بدھ مت اور ہندوؤں کی دوسری ذاتیں جیسے شودر وغیرہ بھی آبادتھیں کہ جن کے ساتھ بہت ناروا سلوک روا رکھا جاتاتھا۔امن وامان کی صورتحال ابترتھی،اورمعاشی اورمعاشرتی اعتبار سے یہ انتہائی پسماندہ علاقے تھے۔کوئی ریاستی انتظامی ڈھانچہ موجودنہ تھا،غربت اور جہالت عام تھی۔بدانتظامی،بدعنوانی اور ظلم وستم کی وجہ سے انسان حیوانوں سے بھی بدترزندگی گزارنے پر مجبورتھے،مگرنہ تو ان کے حکمرانوں کو کوئی پراہ تھی اور نہ ہی ان کے پنڈتوں کو،کہ دونوں ہی طبقے رعایاکہ استحصال اورخون چوسنے میں شراکت دارتھے۔
مسلمان اس سے قبل رومی اور ایرانی سلطنتوں کوفتح کرچکے تھے۔مصرسے لیکر شمالی ومغربی افریقہ تک اسلامی پرچم لہرارہاتھا۔تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان جہاں بھی گئے دشمن کی حکومتوں ،لشکروں اور فوجوں سے توجنگ ہوتی تھی ،لیکن مقامی آبادی ہمیشہ مسلمانون کے اخلاق وکردارسے متاثرہوکر دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتی۔مسلمانوں کی فتوحات میں ان کے اس حسن سلوک کابڑاعمل داخل تھاکہ جوانہوں نے مقامی آبادی سے روارکھا۔اس کانتیجہ یہ ہواکہ مقامی آبادی اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے سابق حکمرانوں کے خلاف مسلمانوں کی حلیف بن جاتی کہ جو صدیوں سے ان پر ظلم کررہے ہوتے۔آج اگر ایشیاء وسطی سے لیکر شمالی افریقہ تک لوگ مسلمان ہیں توصحابہ کرام رضی اللہ عنہ اور بعدمیں آنے والی مسلمانوں فوجوں کے انہی اعلیٰ ترین اخلاق،کردار اور انصاف کی وجہ سے ہیں۔علاقے تو تلوارسے فتح کیے گئے،مگر دل اخلاق سے جیتے گئے!(کچھ کھٹی کچھ میٹھی باتیں)آئیں یہاں پر ہم آپ کو تاریخ کا ایک حیرت انگیز واقعہ سناتے ہیں کہ جوحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے رحمت اللعالمین ہونے کی ایک عظیم الشان مثال ہے۔سیدی رسول صلی اللہ علیہ وسلم اعلان نبوت کے بعدجب مشرکین مکہ کو اسلام کی دعوت پیش کرتے ہیں،توآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدیدمزاحمت اور مخالفت کاسامناکرنا پڑتاہے۔اپنے اسی مشن کو جاری رکھنے کے لیے ایک مرتبہ سید رسول صلی اللہ علیہ وسلم طائف کی جانب تشریف لے جاتے ہیں۔اہل طائف کی جانب سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرشدید ظلم وستم ڈھایاجاتاہے ۔علاقے کے اوباش لڑکوں کو سیدی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگادیاجاتاہے اور اس قدر پتھر برسائے جاتے ہیں کہ سیدی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کاپورا وجود مبارک خون سے ترہوجاتاہے ،حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین مبارک بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک خون سے بھیگ جاتے ہیں۔اپنے محبوب کی اس بے بسی اور ان کے ساتھ طائف والوں کی بے ادبی کو دیکھ کر اللہ سبحان وتعالیٰ بھی جلال میں آجاتے ہیں۔اسی وقت حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں فرشتے نازل کیے جاتے ہیں کوجہ سیدی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کرتے ہیں کہ طائف کے پہاڑوں کوآپس میں ملادیاجائے،تاکہ ان کے درمیان بسنے والی قوم تباہ وبرباد ہوجائے۔اب زرا ماحول کا اندازہ کیجئے ۔سیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی دکھی اور غمزدہ ہیں،پورا وجود مبارک خون میں نہایا ہوا ہے ،اطراف میں اہل طائف کے بھیجے ہوئے غنڈے ہیں کہ جونہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرپتھراؤکررہے ہیں ،بلکہ توہین آمیز فقرے بھی کس رہے ہیں۔سیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اب پورا اختیار موجودہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں توایک لمحے میں یہ پوری قوم تباہ کی جاسکتی ہے ،مگر سیدی رسول اللہ صلی علیہ وسلم رحمت اور مغفرت کا معاملہ اختیار فرماتے ہیں۔ فرشتوں سے مخاطب ہوکرفرماتے ہیں کہ اس قوم کو تباہ نہ کیاجائے،کہ ان شاء اللہ ان کی نسلوں سے اللہ تعالیٰ مسلمان پیدا کرے گاکہ جن سے اسلام کوتقویت حاصل ہوگی۔سیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا قبول کرلی جاتی ہے ۔اہل طائف پرسے عذاب ٹال دیاجاتاہے اور سیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وادی سے پلٹ کر مکہ مکرمہ تشریف لے جاتے ہیں ۔کچھ ہی عرصے کے بعد اہل طائف بھی اسلام قبول کرلیتے ہیں اور اسی قبیلے سے ایک ایسا نوجوان نکلتاہے کہ جس کی برکت سے آج پورے ہندوستان میں کروڑوں انسان ایمان اور اسلام کی دولت سے مالا مال ہیں۔محمدبن قاسم ثقفی رحمتہ اللہ علیہ کاتعلق اہل طائف ہی سے ہے اور یہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی دعاکی تاثیر اوربرکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے اتنا عظیم الشان کام لیا۔
حجاج بن یوسف بھی ایک عجیب وغریب شخصیت کا مالک تھا۔ایک طرف تو یہ شخص انتہائی دلیر،ذہین اوردوربین نگاہیں رکھنے والا سپہ سالارتھا،مگردوسری طرف اس کی طبعیت میں سخت شدت اور ظلم کی حدتک سختی تھی۔بنوامیہ کے دورمیں اس کو عراق اورخراسان کا گورنر مقررکیاگیا۔ایک طرف توحجاج بن یوسف کی تلوارسے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں،حتیٰ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے اوراس کی فوجوں نے مکہ اور مدینہ پر چڑھائی بھی کی۔مگردوسری جانب اللہ نے اسی سے پوری دنیا میں آنے والی صدیوں تک اسلام کوپھیلانے کاکام بھی لیا۔اسی کے بھیجے ہوئے لشکروں نے ایشیاء وسطی سے لیکر چین اور روس تک اسلام کاپرچم لہرایا ۔دوسری جانب اسی کی بھیجی ہوئی فوجوں نے اندلسیہ فتح کرکے آنے والی صدیوں تک وہاں اسلامی تہذیب قائم کی اور اسی نے اپنے بھتیجے محمدبن قاسم ثقفی رحمتہ اللہ علیہ کوہندوستان کی جانب بھیجااور یوں ہندوستان کی فتح اور غزوہ ہند کا باقائدہ آغازہوا۔
جیسے کہ ذکر کیاجاچکاہے کہ اس دورمیں مسلمانوں کی بستیاں سیلون موجودہ سری لنکا،مالدیپ اور بہر ہند کے دیگرجزائر میں قائم ہوچکی تھیں۔مسلمانوں کے تجارتی بحری جہازہندوستان کے ساحل کے پاس سے ہوتے ہوئے خلیج فارس میں داخل ہوتے اورعراق کی بندرگاہ بصرہ میں لنگر اندازہوتے۔سیلون میں کچھ مسلمان تاجروں کا انتقال ہوگیااور ان کے اہل خانہ تجارتی جہازوں کے ساتھ بصرہ جانے کیلئے روانہ ہوئے۔سندھ کے قریب سے گزرتے ہوئے مسلمانوں کے بحری جہازوں کوان بھری قذاقوں نے کہ جو سندھ کے سب سے بڑے ہندوراجہ داہر کے ماتحت تھے،لوٹ لیا۔نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کامال واسباب لوٹ لیا،بلکہ مسلمان عورتوں اور بچون کو بھی قیدی بنا کر ہندوقذاق اپنے ساتھ دیبل لے گئے۔دیبل کاقدیم شہران بحری قذاقوں کا مرکزتھا۔جب ان مسلمان عورتوں اور بچوں کو قید خانے میں ڈالاجارہاتھا توان میں سے ایک عورت نے پکارکر حجاج کو آوازدی اور اسے مددکے لیے بلایا۔کسی طرح یہ پیغام بچ جانے والے مسلمانوں کے ذریعے حجاج کے کانوں تک پہنچ گیا۔حجاج بن یوسف اس وقت اپنے دربارمیں بیٹھاتھا۔جب اس تک یہ پیغام پہنچا کہ مسلمانوں کی ایک بیٹی نے قید خانے سے اس کو مددکیلئے پکاراہے ،تووہ جوش وجلال میں بے قرارہوگیا۔فوراًہی ایک مسلمان فوج تیارکرنے کا حکم جاری کیاگیا کہ جس کو ذمہ داری سونپی گئی کہ دیبل پہنچ کر ان مسلمان قیدیوں کو چھڑائے اور بحری قذاقوں کونشان عبرت بنادے۔اس مہم سے قبل حجاج نے ایک خط راجہ داہر کے نام ارسال کیا تھاکہ جس میں یہ دونوں کام کرنے کامطالبہ کیاگیاتھا۔راجہ دائر نے یہ خط پڑھ کر بڑے تمسخر سے جواب بھجوایاکہ مسلمان قافلے کوبحری قذاقوں نے لوٹاہے اور راجہ داہر کا ان پر کوئی اختیار نہیں ۃے ۔اس جواب کے بعد اب حجا ج کے پاس اور کوئی راستہ موجودنہ تھا،سوائے اس کے کہ مسلمان فوج خود جاکر اس مہم کو سرانجام دے ۔اب حجاج کو ایک سپہ سالار کی تلاش تھی کہ جواس مہم کی قیادت کرسکے۔ہندوستان کی جانب بھیجی جانے والی پہلی دوجنگی مہمات میں ناکامی کے بعداب حجاج بن یوسف کی نگاہ اپنے نوجوان سترہ سالہ بھتیجے پرپڑی کہ جوکم عمری کے باوجو دسپہ گری ،حربی حکمت عملی اورفہم وفراست میں کسی بھی بڑے سے بڑے سپہ سالارسے کم نہ تھا۔محمدبن قاسم رحمتہ اللہ علیہ اپنی کم سنی کے باوجود،پہلے ہی حجاج کی حکومت میں ایک اہم مقام بناچکے تھے۔حجاج نے انہیں سپہ سالارمقررکرتے ہوئے تقریباًبارہ ہزارکی فوج کے ساتھ سندھ کی جانب روانہ کیا۔اس فوج میں چھ ہزار کے قریب شام کے عرب مسلمان تھے،جبکہ باقی فوج دیگرعلاقوں سے اگھٹی کی گئی تھی۔فوج کاایک بڑاحصہ بحری جہازوں کے ذریعے خلیج فارس سے ہوتاہوا سندھ کی جانب روانہ کیاگیا۔جبکہ محمدبن قاسم خودایک چھوٹے سے دستے کے ساتھ ایران سے ہوتے ہوئے بلوچستان میں داخل ہوئے اورمکران کے ساحل کے ساتھ ساتھ سفرکرتے ہوئے موجودسندھ میں جاپہنچے ۔دونون فوجیں دیبل کے قلعے کے قریب آپ میں مل گئیں ۔محمدبن قاسم کی فوج میں گھڑسوار دستے اور پیادہ فوج شامل تھی،مگرپہلی مرتبہ یہ فوج اپنے ساتھ بھاری پتھر پھینکنے والی مشینری بھی لے کرآئی تھی۔(کچھ کھٹی کچھ میٹھی باتیں)
یہ سندھ کے ہندوراجاؤں کامسلمانوں کی باقاعدہ فوج سے پہلاتصادم تھا۔دیبل کے قلعے کا محاصرہ کرلیا گیا۔طویل عرصے تک دیبل کامحاصرہ جاری رہا۔اکثراوقات دونوں فوجوں کی کھلے میدان میں جھڑپیں بھی ہوتیں،مگرمسلمان ابھی تک قلعے کو فتح نہ کرپائے تھے۔دیبل کے قلعے کے عین بیچوں بیچ ایک مندرقائم تھا کہ جس پر ایک جھنڈانصب تھا۔کسی نے محمدبن قاسم کواطلاع دی کہ شہر یمں موجودہندوؤں کاعقیدہ یہ ہے کہ جب تک یہ جھنڈآ اس مندرپرقائم ہے،اس وقت تک کوئی فوج دیبل کے قلعے کو فتح نہیں کرسکتی۔اب محمدبن قاسم نے اپنے توپ خانے(منجنیقوں)کوحکم دیا کہ تاک کر اس جھنڈے پرضربیں لگائی جائیں ۔منجنیقوں کی سنگ باری کے باعث بالآخر یہ جھنڈآ اپنی جگہ سے اکھڑ گیا اور ساتھ ہی مسلمانوں نے قلعے پر یلغارکردی ۔جھنڈاگرنے کی وجہ سے دفاعی فوج حوصلہ ہاربیٹھی اورجلدہی یہ قلعہ مسلمانوں نے فتح کرلیا۔یہ سندھ میں مسلمانوں خی پہلی بڑی فتح تھی۔آج دیبل کا شہر اور اس کا قلعہ موجودنہیں ہے،مگرسندھ کے ساحل کے پاس شہرکے کچھ کھنڈرات باقی ہیں کہ جن کے بارے میں کہا جاتاہے کہ یہی دیبل کا شہر تھا۔
محمدبن قاسم نے فتح کے بعدمسلمان قیدیوں کو آزادکروایا اور شہر کو مسلمان سلطنت میں شامل کرلیا گیا۔یہاں پر محمدبن قاسم کو معلوم ہوا کہ راجہ داہر فرارہوچکاہے ۔اب محمدبن قاسم نے فیصلہ کیاکہ راجہ داہر کااندرون سندھ تعاقب کیاجائے۔مسلمان فوج دیبل سے نکل کر موجودحیدرآباد کی جانب بڑھی۔جب محمدبن قاسم نے دیبل کاقلعہ فتح کیا توعوام الناس کے ساتھ انکاسلوک مثالی تھا۔چنانچہ یہ بات سندھ کے مظلوم عوام میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ یہاں ایک بہت نیک حکمران پہنچاہے۔محمدبن قاسم اور ان کے سپاہیوں کاکردار،ان کے اپنے راجاؤں ،فوجیوں اوردیگر حملہ آوروں سے یکسرمختلف تھاکہ جوصدیوں سے یہاں ظلم وستم کرتے چلے آرہے تھے۔قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی شاندارروایات کوقائم رکھتے ہوئے یہاں بھی مسلمان فوج نے یتیموں ،بیواؤں،مساکین اوردیگر نہتے عوام کے ساتھ انتہائی نرمی اور رحمدلی کامعاملہ رکھا۔نہ توکسی کامال لوٹاگیا ،نہ کسی کی عزت پرحملہ کیاگیااور نہ ہی کسی کی ناحق جان لی گئی۔اس حسن سلوک کانتیجہ یہ نکلاکہ ہزاروں کی تعدادمیں مقامی آبادی بھی محمدبن قاسم کی فوج میں شامل ہونے لگی ۔مقامی افراد ان کی فوج کیلئے رہنما،گائیڈ،مخبراور جاسوسی کے فرائض بھی انجام دینے لگے۔انہی کے ذریعے محمدبن قاسم کو راجہ داہر کی تمام حرکات وسکنات کے بارے میں پیشگی ملتی رہی ۔اندورن سندھ پیش قدمی کے دوران جگہ جگہ مسلمان فوج کی ہندولشکروں سے جھڑپیں ہوتی رہیں،مگرمسلمانوں کی پیش قدمی جاری رہی ۔موجودہ نواب شاہ کے نزدیک بالآخر راجہ داہر بذات خود ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ ایک فیصلہ کن جنگ کیلئے میدان میں اترا۔راجہ داہراور اس کے حلیف ہندوراجوںکا لشکر تقریباًایک لاکھ سپاہ پر مشتمل تھاکہ جن میں ہاتھیوں کی بھی ایک بڑی تعدادتھی۔خودراجہ داہربھی ایک بڑے ہاتھ پر سوارتھا۔ایک لاکھ ہندوؤں کے مقابلے پرمحمدبن قاسم کی فوج تقریباًبارہ ہزارسپاہ پرمشتمل تھی۔
یہ ہندوؤں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف سب سے زیادہ منظم مزاحمت تھی۔یہاں تک کہ راجہ داہر کی رانیاں بھی اپنے قعلے کی دیوارپر بیٹھ کر اس جنگ میں شامل تھیں۔ہندواپنی ساری قوت اس جنگ میں جھونک چکے تھے۔راجہ داہر کوبھی اس بات کاعلم تھا کہ اس جنگ میں شکست کے نتیجے میں پوراسندھ اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔اور پھربالآخر ہوابھی یونہی۔ایک گھمسان کی جنگ میں راجہ داہرماراجاتاہے۔اس کے مرتے ہی اس کی فوج بکھرجاتی ہے۔محمدبن قاسم کیلئے یہ ایک فیصلہ کن فتح تھی۔اس جنگ میں پچاس ہزارسے زائد ہندوفوجی قتل ہوئے،جبکہ مسلمانوں کانقصان نہ ہونے کے برارتھا۔اس جنگ کے بعد نہ صرف یہ کہ ہندوستان کی مکمل فتح کا دروازہ کھولاجاچکاتھا،بلکہ سندھ کوصوبہ بھی اب مسلمانوں کے قبضے میں آچکاتھا۔ اسی لیے آج تک سندھ کو "باب الاسلام" کے لقب سے یادکیاجاتاہے۔
اس دورمیں مسلمان سلطنت کا ایک عسکری ڈویژن تقریباًبارہ ہزارفوجیوں پرمشتمل ہوتاتھا۔حجاج بن یوسف نے جوتین بڑی جنگی مہمات روانہ کیں ،ان میں یہی بارہ بارہ ہزارفوجیوں کے ڈویژن بھیجے گئے تھے۔ طارق بن زیاد بھی اندلسیہ کی فتح کیلئے بارہ ہزارفوج کے ساتھ جبل الطارق پراترے تھے۔قتیبہ بن مسلم اسی طرح کاایک ڈویژن لیکروسطی ایشیاء کی طرف حملہ آورہوئے تھے۔اسی طرح محمد بن قاسم رحمتہ اللہ علیہ بھی ایک ڈویژن فوج کے ساتھ ہندوستان پر حملہ آورہوئے۔آج کی جدیدافواج میں بھی ایک ڈویژن تقریباًبارہ ہزارفوجیوں پرہی مشتمل ہوتاہے۔ تاریخ اسلام کے یہ حیرت انگیز واقعات ہیں کہ جن میں صرف ایک ایک ڈویژن فوج نے پورے پورے ملک فتح کرلیے تھے۔ محمدبن قاسم کی مہم میں اور بھی کئی غیرمعمولی واقعات وقوع پذیرہوئے ۔مسلمان فوج نے پہلی مرتبہ اپنی سرحدوں سے باہر منجینقوں کااستعمال کیاتھا۔ رسدکے لیے بحریہ کو استعمال کیاگیا۔سندھ کی جانب روانہ کی جانے والی جنگی مہم ایک مکمل فوجی کاروائی تھی کہ جس میں بری فوج،بحری فوج اور توپ خانے کومربوط کرکے جنگی کاروائی کی گئی۔آج کی جدیدجنگوں میں بھی یہی مربوط حکمت عملی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔
ایک ایک جنگ نے سندھ کی تاریخ بدل کررکھ دی۔نہ صرف یہ کہ محمدبن قاسم نے ایک بہت بڑی تعداد میں مال غنیمت حاصل کیا،بلکہ راجہ داہر کی سلطنت کوبھی مکمل طورپر کچل دیاگیا۔اب ملتان تک محمدبن قاسم کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی۔مسلمان فوج نے آگے بڑھ کر ملتان کامحاصرہ کرنے کافیصلہ کیا۔ملتان میں راجہ داہرکے قریبی رشتہ دار حکومت کررہے تھے۔انہوں نے ہتھیارڈالنے سے انکارکیا،لہذاقلعے کامحاصرہ کرلیاگیا۔محاصرہ بہت طویل عرصے تک چلا۔پھریہاں بھی مقامی آبادی نے محمدبن قاسم کی مددکی اوربتایاکہ ملتان کے قلعے میں جوپانی آرہاہے ،وہ زیرزمین سرنگ کے ذریعے آتاہے ۔محمدبن قاسم کو مشورہ دیا گیا کہ اگرپانی کی سپلائی کاٹ دی جائے توچندہی دنوں میں قلعے پر قبضہ کیاجاسکتاہے۔ ملتان کی فتح کے بعدمحمدبن قاسم نے آگے بڑھنے کے بجائے مفتوحہ علاقوں کے نظم وضبط ،انتظامی اموراور عدل وانصاف کے نظام کوترتیب دینے کافیصلہ کیا۔مقامی آبادی میں کوئی ایک بھی مسلمان نہ تھااور ایک غیر مسلم رعایاپر اسلامی شریعت نافذ نہیں کی جاسکتی تھی۔ بہر کیف حکمران مسلمان ہی مقررکیے گئے،لیکن مقامی آبادی کواپنے مذہب کے مطابق رہنے کی اجازت دے دی گئی۔ایک چھوٹے سے ٹیکس کی شکل میں ان پرجزیہ لگایاگیا،اسکے علاوہ ان پرکوئی مزید سختی نہیں کی گئی۔ان کے ساتھ بہترین حسن سلوک روارکھا گیا۔اس قدرنرمی دکھائی گئی کہ حجاج بن یوسف نے فکرمند ہوکر محمدبن قاسم کو تنبیہ کی کہ اس قدرنرمی نہ دکھائی جائے کہ کہیں اس سے مقامی آبادی کو بغاوت کرنے کاموقع نہ مل جائے۔مقامی ہندوؤں کیلئے محمدبن قاسم کاحسن سلوک اور رویہ ناقابل فہم بھی تھا اورناقابل یقین بھی۔ان میں یہ عقیدہ بہت تیزی سے جڑپکڑنے لگا کہ محمدبن قاسم کوئی انسان نہیں بلکہ آسمان سے اترادیوتاہے کہ جوان کے اپنے راجاؤں کے ظلم وستم سے نجات دلانے کے لئے بھیجا گیاہے۔۔بہت سے ہندوؤں نے محمدبن قاسم کی مورتیاں بنا کر ان کی پوجا بھی شروع کردی ،کہ جسے بعدمیں محمدبن قاسم کو سختی سے روکناپڑا۔
سندھ میں امن قائم کرنے کے بعد محمدبن قاسم نے ہندوستان کے دیگر راجوں اور مہاراجوں کوخطوط لکھنا شروع کیے اور ان کو اسلام کی دعوت دی۔دوسری صورت میں جزیہ قبول کرنے کی پیش کش کی گئی اور اس سے بھی انکارکی صورت میں ان پر واضع کردیاگیاکہ پھر صرف مسلمانوں کی تلوار ہی ان کا فیصلہ کرے گی۔محمدبن قاسم کی پوری کوشش تھی کہ جنگ کے بغیر امن معاہدوں کے ذریعے ہی شہر فتح کرلیے جائیں۔اس مقصدکے حصول کے لیے ان کاحسن سلوک بہت کام آیا۔بیشترشہر تو بغیر جنگ کے ہی فتح کرلیے گئے۔
اب مسلمانوں کاسندھ پر مضبوط کنٹرول قائم ہوچکاتھا ۔محمدبن قاسم آگے بڑھ کر ہندوستان پر یلغار کا اراہ کرچکے تھے،مگر عین اس اثناء میں ایک افسوسناک واقعہ رونماہوتاہے ۔بصرہ محمد حجاج بن یوسف کاانتقال ہوجاتاہے او رساتھ ہی دمشق میں خلفیہ بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔نئے آنے والے خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کے دل میں حجاج بن یوسف کے خلاف خاص نفرت تھی اور اسی لیے اس نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے محمدبن قاسم کو فوراًواپس پہنچنے کاحکم جاری کردیا۔اس وقت تک محمدبن قاسم پورے سند ھ پر اپنی ایک حکومت قائم کرچکے تھے۔وہ چاہتے تو ایک آزادریاست بھی بنا سکتے تھے۔ان کو اس بات کا علم تھا کہ نیا خلفیہ ان کی جان کا دشمن ہے اور واپسی کے نتیجے میں موت یقینی ہے۔
محمدبن قاسم سندھ فتح کرچکے تھے اور سندھ کی حکومت اور انتظامیہ کومنظم کرنے کے بعد اتنے طاقتور ہوچکے تھے کہ سندھ کو ایک آزادمسلم سلطنت بنالیتے ،مگراس نوجوان نے اس بات کو ترجیح دی کہ واپس جاکر اپنی جان خطرے میں ڈالے،نہ کہ تصادم کارستہ اختیارکرکے ملت کا شیرازہ بکھیر دے۔انسانی تاریخ میں کسی اور سپہ سالار نے اتنا اختیار رکھنے کے باوجود بھی،یقینی موت کواس طرح اختیاری طورپر قبول نہیں کیا کہ جس طرح اس نوجوان مجاہدنے۔اپنے دوستوں کے تمام ترمشورے کے برخلاف محمدبن قاسم نے واپس لوٹنے کافیصلہ کرلیا۔اور پھروہی ہوا کہ جس کاڈرتھا۔امت مسلمہ کے اس عظیم سپہ سالار کو کہ جس نے صرف سترہ برس کی عمرمیں ہندوستان فتح کرنے کے راستے کھول دئیے تھے،واپسی پر گرفتار کرکے قید خانے میں ڈال دیاگیااور پھر اذیتیں دے کر شہید کردیاگیا۔شہادت کے وقت آپ کی عمر صرف اکیس برس تھی! (کچھ کھٹی کچھ میٹھی باتیں)
تاریخ کایہ ایک عجیب وغریب کھیل ہے کہ اس شہید مجاہد کابیٹا عمروبن محمد چندسالوں بعد خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے حکم سے سندھ کاگورنر مقررکیاگیا۔وہ رومانوی داستان کے جس کاآغاز محمدبن قاسم نے کیاتھا،اس کی تکمیل اب ان کے بیٹے کے نصیب میں آئی۔وہ تمام دفاعی مقاصد کہ جومسلمان حاصل کرناچاہتے تھے،سندھ کی فتح سے حاصل کرلئے گئے۔مالدیپ اور سیلون سے لے کر انڈونیشیاء تک کے تمام سمندری راستے مسلمانوں کی تجارت اور تبلیغ کے لیے صاف اور محفوظ بنادئیے گئے۔ہزاروں کی تعدادمیں مسلمان تاجر اور مبلغ ہجرت کرکے بلادِاسلامیہ سے مشرق بعید تک جانے لگے۔ مشرق بعید کے ممالک بغیر تلوار کے ہی فتح ہوگئے،مگر وہاں تک اسلام کی دعوت پہنچانے کے لئے ضروری تھاکہ ہندوستان کے آس پاس موجود مشرک رکاوٹوں کو دورکیاجائے اوریہ کام اللہ تعالیٰ نے طائف کی وادی سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے نوجوان سے لیا کہ جس کو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی دعالگی ہوئی تھی۔
سندھ کی فتح کو تاریخ کی عظیم ترین جنگی فتوحات میں شامل کیاجاتاہے۔ آج بھی چین کے جنوب میں کینٹون کے شہرمیں جومسجد قائم ہے ، وہ اسی وقت کی ایک یادگارہے۔ایک روایت کے مطابق وہاں صحابی رسول حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بھی دفن ہیں۔ایک قبرپر تو حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کانام بھی کندہ ہے۔لیکن یہ روایت درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ بعض روایات کے مطابق حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کاانتقال مدینہ منورہ میں ہواتھااور آپ جنت البقیع میں دفن ہیں ۔مگر اس حقیقت سے کوئی انکارنہیں کہ صحابہ کرام ،تابعین اور تبع تابعین کی ایک بڑی تعداد اس راستے پر ضرورآئی تھی۔
اب بحرہند پرمکمل طورپر مسلمانوں کی حکومت تھی ۔ بازنطینی بحریہ کو توبحیرہ روم میں مقید کردیا گیا،لیکن بحرہند میں صرف چین کی بحریہ ہی ایسی تھی کہ جومسلمانوں کامقابلہ کرنے کی سکت رکھتی تھی،لیکن وہ مسلمانوں کے سامنے نہیں آئی۔اب انڈونیشیاء سے لیکربصرہ تک تمام بحری راستے مکمل طورپر مسلمانوں کی دسترس میں تھے۔قتیبہ بن مسلم کی مہم افغانستان ،خراستان او رایشیاء وسطی کے علاقے فتح کررہی تھی۔وہ وہ وقت تھاکہ جب سلطنت اسلامیہ کی سرحدیں کاشغرسے لے کر قسطنطنیہ سے یمن تک اوریمن سے لیکراسپین اور پھر ہند تک پھیل چکی تھیں۔ ملت اسلامیہ میں یہ وسعت بنوامیہ کے دورمیں ہوئی ۔
ہندوستان کوفتح کرنے کے بعدحجاج بن یوسف کاایک ہدف یہ بھی تھاکہ جنوبی راستے سے چین پر حملہ کیاجائے۔مغربی راستے سے توقتیبہ بن مسلم کی فوجیں کاشغر فتح کرچکی تھیں اور شمال کی جانب سے مسلمان سلطنت کی سرحدیں چین سے مل چکی تھیں۔ حجاج بن یوسف کے انتقال اور محمدبن قاسم کی شہادت سے یہ تمام جنگی مہمات یہیں رک گئیں۔مسلمان کبھی بھی کاشغر سے آگے بڑھ کر چین پر قبضہ نہ کرسکے۔مسلمانوں فوجیں سندھ سے نکل کر ہندوستان کے قلب پر حملہ آورنہ ہوسکیں،گوکہ مسلمانوں نے ہندکادروازہ کھول کر بڑی مضبوطی سے اپنے قدم اس کے اند جمالیے تھے۔ ہند کو فتح کرنے کی ذمہ داری پھرآنے والی صدیوں میں ان مسلمان حکمرانوں اور سلاطین کے کاندھوں پر آئی کہ جنہوں نے افغانستان سے راستے غزوہ ہند کی نیت سے ہندوستان پر یلغارکی۔افغانستان کوقتیبہ بن مسلم کے دور میں ہی فتح کرلیاگیا اور پوری افغان آبادی نے اسلام قبول کرلیاتھا۔ آنے والی صدیوں میں یہ ذمہ داری اب افغانستان کے حکمرانوں کودی جانے والی تھی کہ وہ محمدبن قاسم کی مہم کی تکمیل کریں۔
سلطان محمودغزنوی رحمتہ اللہ علیہ وہ پہلے مسلمان حکمران تھے کہ جنہوں نے شمال مغرب کی جانب سے ہندوستان پرباقاعدہ حملے شروع کیے۔ان کے بعد سلطان محمدغوری رحمتہ اللہ علیہ وہ پہلے مسلمان مسلمان افغان سلطان تھے کہ جنہوں نے دہلی کو فتح کرکے ہندوستان میں باقاعدہ اسلامی ریاست کی بنیادرکھی۔سلطان غوری کے بعد تقریباًایک ہزارسال تک مسلمان ہندوستان پر حکمراتی کرتے رہے حتیٰ کہ 1857 ہجری کے بعد کہ جب مغل حکومت کو زوال ہوتاہے توپھرنوے برس تک مسلمانان ہند انگریزوں کی غلامی میں جکڑے جاتے ہیں۔اس کے بعد ایک مرتبہ پھر برصغیر ہندوستان میں ایک اسلامی ریاست قائم ہوتی ہے کہ جس کی بنیادیں اسی سندھ میں رکھی جاتی ہیں کہ جسے محمدبن قاسم نے فتح کیاتھا۔یہ محمدبن قاسم کوحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی دعاتھی کہ اللہ نے ان کے ہاتھوں سندھ اور ہند کی فتح کے دروازے کھولے اور ہندوستان میں مشرکوں کواسلام سے منورکیا۔آج آدھے سے زیادہ پاکستان ان علاقوں پر قائم ہے کہ جہاں محمدبن قاسم کی حکومت تھی۔
اسی لیے بانی ء پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح رحمتہ اللہ علیہ نے یہ فرمایاتھا کہ پاکستان اسی وقت قائم ہوگیاتھا کہ جب ہندوستان میں پہلا ہندومسلمان ہواتھا!تاریخ کی یہ حقیقت ہے کہ پاکستان بننے کی بنیادمحمدبن قاسم رحمتہ اللہ علیہ نے رکھی ۔